January 26, 2012

خدائی ردھم

سانسیں ۔ مستقل طور پر چلتی ہوئیں - ایک مناسب  وقفے کے ساتھ ۔ ابتدا کی سختی سے نالاں نہ ہی انجام سے وحشت زدہ - بس اپنی ہی دھن میں برابر چلتی رہتی ۔ نہ اتنی تیز کہ خود کو تھکا ڈآلیں نہ اتنی سست کہ ان کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے ۔ نہ  تھکن کوئی نہ عجلت ۔ نہ اتنی خاموش کہ لاشعور ہی ان کی آواز سے بیگانہ ہو جائے اور نہ اتنی آواز کہ کانوں میں مدھم سی آواز کو بھی آنے سے روکیں۔ ا ایک لڑی میں پروئی ہوئی نہ اتنی مختصر کہ شناخت ہی کھو دیں نہ اتنی طویل کہ   خود میں ہی الجھ جائیں۔ سانسوں کی مالا حیات کو رواں رکھے ہوئے ایک ساز ایک ردھم ایک تسلسل دیئے ہوئے ایک ایسا خدائی ردھم جس میں مست انسان کے جسم کا ایک ایک حصہ اپنی مستی میں کام کر رہا دوسرے حصوں کے ساتھ مل کر ایک بہائو میں اس طرح کہ جب تک یہ سانس چلتی رہیں جیات چلتی رہے جسم حرکت کرتا رہے یہ ردھم ختم تو سکوت ، خاموشی ، زندگی ختم۔ سانسیں انسان کا پہلا  عملی سبق۔

January 18, 2012

میلنکلی


یہ تب کی  بات ہے جب میں شاید سولہ برس کا تھا سکول کی چھٹیاں تھیں سردیوں کی اور گائوں آیا ہوا تھا ۔ رات کو بیت خلا جانے کی حاجت ہوئی تو گائوں میں نقشے وغیرہ تو تھے نہیں اور بیت الخلا بھی بعد میں باہر کی طرف بنا ہوا تھا میں خاموشی سے اٹھ کر جونہی باہر نکلا تو سامنے ایک عورت کو کھلے بالوں کے ساتھ بہت وحشی انداز میں دیکھ کر میری حالت خٔوف سے غیر یو گئی ایک لمحے کے لیے کانپ ہی گیا لیکن خوش قسمتی کہیئے کہ جاندنی رات تھی اور میں پہچان گیا کہ یہ چڑیل نہیں ماسی باگاں ہے لیکن ماسی بھاگاں سے  بچے تو کیا اکثر بڑے بھی ڈرتے تھے مشہور تھا کہ اس کو سردیوں کے موسم میں جن یا پری آ جاتی ہے اور گرمیوں میں چلی جاتی ہے۔ سخت سردی میں ماسی بھاگاں نے صرف عام سے 
کپڑے ہی پہن رکھے تھے اور چپل لیکن وہ بال کھولے ایک عجیب اور سرور و مستی کی کیفیت میں تھی اس نے ہاتھ کھول رکھے تھے اور اس کے بال تیز ہوا میں اڑ رہے تھے اور وہ تیز ہوا کے طمانچوں کو اپنے چہرے میں محسوس کر رہی تھی اور ایک عجیب سی سرشاری تھی اس کے چہرے پہ۔ اس نے مجھے یکسر نظر انداز کیا اور چلی گئی۔ میں اس کو جاتا دیکھتا رہا میں نے اس کے جانے کے بعد اس کی سی کیفیت میں ویسے ہی ہوا کو محسوس کرنا چاہا مجھَے بہت عجیب سا احساس ہوا ، اگلی صبح مجھے بہت تیز بخار تھا۔۔
ماسی باگاں گرمیوں کے موسم میں گھر کے سارے کام کرتی تھی   ساتھ بکریاں اور بھینسیں پالنا ، لکڑیاں کاٹنا اور کھیتوں میں گاس وغیرہ سبھی اور بہت اچھی طرح ملتی ملاتی سب سے۔ لیکن سردیوں میں جاڑے کے موسم میں ماسی بھآگاں کی طبیعت عجیب ہو جاتی تھی سب کہتے کہ یہ جن آسیب یا کوئی پری ہے ماسی کے ساتھ جو صرف جاڑے کے موسم میں آتی ہے کہونکہ ماسی جوانی میں اس موسم میں رات کو کام کرتی تھی
میں فرسٹ ایئر میں ہاسٹل میں تھا تو مشتاق صآحب میرے استاد محترم مجھَے  سریوں کی راتوں میں رات گئے بلا لیا کرتے تھے جہاں چھوٹی سے محفل ہوتی میرے کچھ اساتزہ کی ۔ وہ مجھے فیض کا نسخہ ہائے وفا کا کوئی حصہ بتاتے اور میں پڑھتا ۔ میری اصلاح بھی کرتے پڑھنے کا سلیقہ بھی انہی سے سیکھا۔
لیکن وہ ایک بات کہتے ہمیشہ کہ شاہ جی راتوں میں تیرا لہجہ عجیب ہو جاتا ہے ۔ وہ  سب بہت مسحور ہو کر سنتے مجھے ۔ خود بھی  بہت کچھ  سناتے ۔مجھے کم ہی کسی چیز کی سمجھ آتی تھی تب۔
وہاں انگریزی کے استاد حمید الرحمن صاحب بھی آتے انہوں نے مجھے ہیملٹ دیا اور کہا کہ یہ پاس رکھو، پڑھو اور سمجھو ۔ میرے لیے وہ پڑھنا ممکن نہیں تھا ۔ سمجھ کہاں آنی تھی مجھے ۔انہوں نے مجھے ہیملٹ کا کردار اور پوری کہانی سمجھائی پھر پڑھایا بھی کافی حد تک  مجھَے۔ میں نے اس کی ایک پرانی فلم بھی دیکھی اور ہیملٹ  میرے زہن میں رچ بس گیا۔  مجھے اپنی زات کا عکس نظر آنے لگا ہیملٹ میں اور آج بھی آتا ہے ، میں اب بھی سردیوں کی رات میں جاگ اٹھتا ہوں رات گئے ۔ اور مجھے یہی لگتا ہے گویا میں ہی ہیملٹ ہوں ۔ اور میں اپنے زہن کے بھوت سے ہمکلام بھی ہوتا ہوں  ، ہر وہ زہن جس میں میلنکلی ہے وہ ہیملٹ کا ہی کردار ہے  اور ہر زہن  کے ساتھ ایک بھوت ہے ، اور یہ ہوتا بھی اسی موسم میں ہے ۔ اسی موسم میں مجھے فیض دوبارہ سے یاد آتا ہے۔ میں پوری پوری رات اس کو پڑھتا رہتا ہوں۔عجیب بے قراری اور بے چینی سے ہوتی ہے۔ ایک بے چین روح کی طرح مچلتا رہتا ہوں، اس کے ساتھ انہون نے مجھے آئن سٹائن کا "دا ورلڈ ایز آئی سی اٹ" انتہائی تفصیل سے سمجھایا لیکن میرا زہن اس کو قبول نہ کر سکا۔ ۔مجھے نہیں معلوم مشتاق صآحب اور حمید الرحمن صآحب نے دانسہ مجھے ہیملٹ اور فیض  میں دھکیلا یا مجھَے اس کی ضرورت تھی ۔ شاید مجھَ اس کی ضرورت تھی۔ یہ میری میلنکولی کو اطمینان دینے کی راہ تھی بلکل ایسے ہی جیسے مائی بھاگاں اپنی میلنکولی کو پر سکون کرنے کے لیے سرد راتوں کو تیز ہوائوں اور سردی سے جا ٹکراتی تھی

پچھلے دنوں پتہ چلا کہ ایک سرد رات کو ماسی بھاگاں ایک کھیت میں ٹھٹھر کر مر گئی ۔ سب اس کی ایسی موت پر افسوس کر رہے تھے لیکن مجھے لگا کہ ماسی نے خود ایسی موت چاہی تھی ۔ اس سرد رات میں تیز ہوائوں کی چبھن اور سردی نے مائی کی مینکولی کو اتنا  مطمئن کیا کہ اس نے اسی سرور میں اپنی جان دے دی۔
مرنا سب نے ہی ہوتا ہے لیکن مائی  نے اپنہ مرضی کی موت لی ۔ ایک ایسی کیفیت کے دوران کہ جو وہ صرف اپنے لیے کرتی تھی، اس کی بے چین روح کو جاڑے کی سرد راتوں میں ہی سکون ملتا تھا ۔مجھَے اس کی موت کا کافی دکھ ہوا کہ مجھے میری میلنکولی سے روشناس کرانے والی ماسی بھاگاں ہی تھی۔

December 29, 2011

ماہ و سال

لو جی یہ سال بھی گززر گیا ہے ۔ اپنی ٹو ڈو لسٹ جو سال کے شروع میں بنائی تھی اس کو کھولا تو پتہ لگا کہ جو کام اس سال پورے کرنے کی ٹھانی تھی جوں کے توں اپنی جگہ پہ موجود ہیں۔ ان کو مکمل تو کیا ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔ ہاں البتہ  کچھ تبدیلیاں دو ہزار دس کی لسٹ میں ضرور ہو گئیں ہیں وہ کام جو 2010 کی ٹو ڈو لسٹ میں اپنی طرف سے پورے کر چکا تھا وہ دوبارہ سے منہ کھول کر سوالیہ نشان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔پچھلے کچھ سالوں کی ٹو ڈو لسٹ کھولی تو دیکھا کہ قریب ایک ہی طرح کی چیزیں ہیں میری ٹو ڈو لسٹ میں کسی کو ایک سال پورا کر دیتا ہوں اور کسی کو اگلے سال اور پھر دوبارہ کسی سال کھول کر نئے سرے سے انی کاموں کا اندراج کر لیتا ہوں اور ایک ہی چکر میں گھومے جا رہا ہوں ۔ شاید کنویں کا مینڈک یہی ہوتا ہے۔
اب سوچ رہا ہوں کہ اگلے سال کی ٹو ڈو لسٹ بنانی ہی نہیں ہے میرے خیال سے ٹو ڈو لسٹ سے کچھ خاص حاصل نہیں ہوتا سوائے اسکے کہ ہر تین مہینے بعد کسی رات آپ بھڑک کر اپنی ٹّوڈو لسٹ کھول بیٹیھیں اور خود کو گھنٹہ دو گھنٹہ کوسنے اور برا بھلا کہہ کر پھر لمبی تان کر سو جائیں۔ کسی سال سے میں ہم کیا حاصل کرتے ہیں اس کا تعین کرنا کبھی کبھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اپنے ماہ و سال بھی کبھی اپنی گرفت سے نکلے دکھائی دیتے ہیں گویا ہم انہیں نہیں وہ ماہ و سال ہمیں گزار رہے ہیں۔ ہمیں گزرتے سالوں کا شمار نہیں رہتا اور ان کے گزرنے کی تصدیق کے لیے ہم مختلف ریفرنس رکھ لیتے ہیں ہر کسی کا ہر عمر میں اپنا ہی ایک ریفرنس ہوتا ہے۔ میرے لیے سب سے آسان زمانہ طالب علمی تھا ہر سال ایک نئی کلاس ، ہر سال میری  بدلتی جماعت میرے  لیے نئے سال کی خوشخبری ہوتی تھی اور سال بھر کا خلاصہ تین مہینے کی چھٹیاں ، گائوں جانا ، سکول کے ٹرپ کی داستان ، اپنے سکول کا گیمز پیریڈ، سالانہ گیمز اور سکول کے وہ فنکشنز جن میں حصہ لیا ہوتا وہ تھے۔پھر گزرتے وقت کے ساتھ خلاصہ ختم اور صرف سال کے گزرنے کا ریفرنس رہ گیا ۔ اور اب تو اس کا احساس بھی مدہم ہو گیا ہے۔
 اپنے ایک دوست سے پوچھا تو وہ اپنے سالوں کا ریفرنس اپنے بیٹے کی نئی جماعت کو رکھ چکا ہے جب اس کا بیٹا اگلی جماعت میں جاتا ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ ایک سال گزر گیا ۔ میرے خیال سے تو اسکو  اپنے بیٹے کا احسان مند ہونا چاہیے کہ وہ پاس ہو جاتا ہے ورنہ میرے جیسا زہیں برخودار  ہوتا تو ایک جماعت میں تین سال تو کم سے کم لگاتا۔ اور ان  حضرت کا ایک سال تین سالوں کے برابر ہوتا ، کوئی اپنے ریٹائرمنٹ کے سال گن رہا تو کوئی اپنی پروموشن کے ۔پردیس میں رہنے والے واپس گھر آنے کو اپنا ایک سال سمجھتے ہیں چاہے وہ ایک سال بعد آئیں یا تین سال بعد ، کوئی چہرے کی جھریاں شمار کرتا ہے تو کوئی بالون مین اتری چاندی۔ غرض ہر کسی نے ایسا ہی کوئی نہ کوئی کھوکھلا سہار رکھا ہوا ہے ان سالوں کے شمار کا ۔۔
  مجھے کبھی کسی سے ایسا جواب نہیں ملا جس کو سن کر میں نے سوچا ہو کہ ہاں یہ سال اس آدمی کا تھا اور اس نے سال کو گزرتے ہوئے محسوس کیا ۔ ہر کوئی اپنے سال کا اثاثہ  بتانے سے قاصر نظر آتا ہے۔

December 12, 2011

بکری والی ٹکر

ایک شیر کا بچہ شیروں کے گروہ سے علیحدہ ہو کر کھو گیا ، چلتا پھرتا وہ بکری کے ریوڑ میں شامل ہو گیا اور انہی کے ساتھ پل کر بڑا ہونے لگا انہی کی طرح چال ڈھال اور آواز بھی اختیار کر لی، ایک دفعہ بھیڑیوں نے بکریوں کے ریوڑ کو گھیر لیا  یہ دیکھ کر شیر کو بہت غصہ آیا جب بھیڑیوں نے بکریوں پر حملہ کیا تو شیر کا غصہ شدید ہو گیا اور اس نے دھاڑ کر شیروں والی آواز نکالی ، آواز سنتے ہی بھیڑیے سہم گئے شیر دھاڑتا اور غضب میں تیزی سے بھیڑئیے کی طرف بڑھنے لگا ۔ قریب پہنچ کر شیر نے بھیڑئیے کو  زور سے بکری کی طرح ٹکر مار دی
نوٹ:- بچپن میں یہ کارٹون سٹوری دیکھی تھی اور  اس کا اینڈ یعنی بکری والی ٹکر (وہ بھی بغیر سینگ کے) تب سے "ان فار گیٹیبل "  ہے اور جب سے جاب سٹارٹ کی ہے میں خود بھی یہی کر رہا ہوں۔  

November 10, 2011

کردار

رات کی تاریکی میں سڑک کے کنارے کھمبے پر لگے بلب کی تیز پیلی روشنی میں  اس کے سائے کا قد اس کے اصل قد سے کئی گنا بڑھ چکا تھا لیکن جیسے ہی وہ روشنی سے دور ہوتا گیا اس کے سائے کا قد گھٹتا گیا حتی کہ اندھیرے میں پہنچ کر اس کے قد کا سایا ہی نہ رہا۔

November 9, 2011

تیرا دل تو ہے فلم آشنا

ہاسٹل میں ہمارے وارڈن صاحب حو کہ اردو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی تھے ان سے کافی علیک سلیک ہو گئی اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ جب سٹڈی آور میں وہ کمروں کا چکر لگانے آیا کرتے تو میں لمبی تان کر سو رہا ہوتا لیکن بلکل کمرے کے دروازے کے سامنے میز پر ایک شاعری کی کتاب رکھ دیا کرتا وہ دروازہ کھول کر مجھے سویا دیکھتے اور کتاب اٹھا کر لے جاتے آگلے دن کتاب واپس لے آتے ۔ میں اپنی دانست میں ان کو یہ رشوت دیا کرتا ، پھر جب کبھی جاگا ہوتا تو کافی دیر ان کے ساتھ گپ چپ ہوتی ۔ باقی دوستوں نے جب دیکھا تو وہ کہتے کہ روز ہی محفل جما لیا کرو سر کے ساتھ کہ اسی بہانے سٹڈی آورز نکل جایا کریں گے بطور رشقت وہ کینٹین میں میری سیوا کیا کرتے کیونکہ سٹڈی آورز میں جو پڑھائی نہیں کر رہا ہوتا تھا وہ جرمانہ ادا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ  سر مشتاق سے کافی دوستی ہو گئی اور ان کے وارڈن لاج میں جا کرخوب محفل جمتی جہاں اور بھی اساتزہ اور سینئر سٹوڈنٹس آئے ہوتے 
کچھ عرصے بعد کالج میں ایک تقریری مقابلہ منعقد ہوا جس میں سنجیدہ تقاریر کے ساتھ ساتھ مزاحیہ تقاریر بھی تھیں۔ اور میں نے کچھ عرصہ پہلے ہی ایک یونیورسٹی کے ایک ایسے ہی مقابلے میں پہلے نمبر پر آنے والی مزاحیہ تقریر کا مسودہ حاصل کیا ہوا تھا سو میں پہلے ہی تیار بیٹھا تھا ۔ اس کا عنوان تھا 
"تیرا دل توہے فلم آشنا ، تجھے کیا ملے گا نماز میں"  
تقریر کا وقت آیا  ججز میں سر مشتاق ہی بیٹھے تھے تقریر کے اختتام پر پہلا انعام ملا سب نے خوب سراہا  ، مجھے انتظار تھا شام کا کہ سر مشتاق سے ملوں شام ہوتے ہی ۔۔
شام کو میں وارڈن لاج میں گیا سر مشتاق اکیلے ہی تھے مجھے دیکھتے ہی وہ غصے سے لال پہلے ہو گئے کہنے لگے تمھاری ہمت کیسے ہوئی اقبال کے مصرعے کا مزاق آرانے کی ، تمھاری نسل صرف اجداد کا مزاق آڑانا جانتی ہے ، ان لوگوں کو جنھیں تمھارا رہبر ہونا چاہیے تم کیوں ان کو مسخرہ بنانا چاہتے ہو۔ اپنے آنے والی نسل کو کیا بتانا چاہتے ہو کہ اس ملک کی تاریخ میں صرف جوکر گززرے ہیں یا یہ سکھانا چاہتے ہو ان کو اپنے بڑوں کی ہر بات کو مزاح کا رنگ دے کر اس سے تفریح لیتے پھرو۔یہی رجحان ہے جو معاشروں میں کینسر کی طرح پھیلتا ہے اور پھر ہر طرف بے حسی پھییل جاتی ہے۔
کچھ لمحے تو مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے یہ سب باتیں میری سمجھ سے بہت بالاتر تھیں  اور مجھے تو یہ تک نہ پتہ تھا کہ میں نے اقبال کے مصرعے کو بدلا ہے میں نے تو فقط کاپی پیسٹ کیا تھا اس وقت تو میں واپس آ گیا ۔ بعد میں احساس ہوا کہ سر کو تکلیف پہنچی ہے غور کرنے پر پتہ چلا کہ تقریر میں ایک دو جملے مزید بھی ایسے تھا  مگر بہر مخفی انداز میں استعمال ہوئے تھے کہ مجھے بھی اندازہ نہ ہو سکا-
سر نے کبھی کسی سے سخت لہجے میں بات نہیں کی  تھی اور ان کا غصہ ہونا عجیب بات تھی اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں کئی بار سر کے پاس گیا مگر انہوں نے مجھ سے بات نہیں کی نہ دوبارہ میرے کمرے میں کبھی آئے
حتی کہ کالج کے اخری روز بھی نہیں ملے ۔
اس بات نے مجھے مجبور کیا کہ میں اقبال کو پڑھوں اگرچہ اقبال کو سمجھنا میرے بس کی بات نہیں تھی لیکن سر مشتاق نے اتنا ضرور سمجھا دیا کہ اقبال ایک سوچ کا نام ہے جو ہر صحت مند اور مثبت زہن میں پیدا ہوتی رہے گی۔


July 18, 2011

بلا فلسفوف- کم بیک پوسٹ

بہت دن ہو گئے دماغ میں فلسفیاتی موجوں کی دھما چوکڑی مچتے سو آج سوچا کہ ان کو آج کسی طرح سر سے اتار پھینکوں۔ مگر کچھ سمجھ نی آ رہی کہ کروں کیا ۔ پہلے سوچا کہ نائی کے پاس جا کر سر پر استرا پھرا لوں کہ بالوں کے  وزن کی وجہ سے تو کہیں یہ آتش فشانی خیالات نہیں آتے رہتے لیکن فرق اس سے بھی نہیں پڑنا یہ تو کمپنی فالٹ لگتا ہے مجھے اور ویسے بھی مردے کے بال کترنے سے مردے کا تابوت کونسا ہلکا ہو جانا ہے۔ الٹا محلے کے بچوں کو ایک نئی تفریح مل جائے گی۔ ویسے کسی ست بھرائی کو بھی  چھیڑا جا سکتا ہے  لیکن اس میں فلسفے کے ساتھ ساتھ سر جانے کا بھی اندیشہ ہے ۔ ہاں یہ کہ میری جاگنگ آج کل زوروں پر ہے،ساون ہے اور فضا میں نمی بہت ہے سو بھاگتے ہوئے وہ حالت ہو جاتی ہے کہ ابھی گرا کہ ابھی گرا مگر ہمیشہ سے سپورٹس گرائونڈ میں جا کر ایک پاگل پن کا شکار ہو جاتا ہوں جس کی آج تک سمجھ نی لگی ، عام حالات میں تو یکسر مختلف ہوتا ہوں، مگر اتنا پسینہ بہنے کے باوجود بھی دماغ کی شریانوں سے فلسوف نہیں بہتا ،اوہ کیا یاد آ گیا ۔ پچھلے تین مہینے سے جاگنگ کر رہا ہوں ہفتے میں دو یا تین بار  ہی جا پاتا ہوں۔ پچھلے دنوںوزن کرایا تو بہتر-72 کلو تھا   بڑا خوش ہوا کہ کافی کم ہو گیا ہے ، کل  ایک اور چاچے کی مشین پر ٹھہرا تو وہ بولا چھتر 76 ہے بس  سارا جوش جاتا رہا، حالانکہ تین ماہ سے پیپسی تک نی پی کسی کو پیتا دیکھتا ہوں قہ آنے لگتی ہے، کھانا کھاتے وقت ہر نوالہ سے پہلے سوچتا ہوں کہ اس سے کتنا وزن بڑھ جانا ہے ، اور پھر جب اپنی جاگنگ کی حالت یاد آتی تو نوالہ حلق سے نیچے ہی نہیں اترتا - ویسے جوش کو قائم رکھنے کے لیے مشورہ ہے کہ غلط مشین پر مستقل مزاجی سے وزن کرایا کریں اور مشین روز روز مت بدلیں  ۔
جاگنگ سے کچھ جملے پیش ہیں آپکی خدمت میں جو مجھے دوستوں بلخصوص اویس سے سننے پڑتے ہیں جب میں ان کو جاگنگ کی کارگزاری سناتا ہوں۔

.........
"تو ہمیشہ ذندگی کی آخری دوڑ سمجھ کر کیوں بھاگتا ہے"
"ترس ہی کھا لیا کر تھوڑا اپنی حالت پر "
"تو کسی دن ٹریک کے آس پاس کسی  شجرکاری مہم  کے کھدے میں پڑا ملے گا"
"ایدھی کی ایمبولینس کو فون کر کے جایا کر بھاگنے"
" چوتھا چکر تو تیرے تابوت کو لیکر تیرا بھائی لگوائے گا تیری آخری وصیت کی تکمیل  کے طور پر "
دو مزید جو بتاتے شرم آ رہی ہے:(
" اوئے تو کتے کی طرح  کیوں بھاگتا ہے"
"تو کتے کی موت مرے گا بھاگتے ہوئے کسی دن"